ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / شرالی مچھلی مارکیٹ میں بنیادی سہولیات کامطالبہ لے کر خواتین کا پنچایت کے سامنےمچھلی بیچ کر احتجاج

شرالی مچھلی مارکیٹ میں بنیادی سہولیات کامطالبہ لے کر خواتین کا پنچایت کے سامنےمچھلی بیچ کر احتجاج

Sun, 12 Feb 2017 12:17:53    S.O. News Service

بھٹکل:12/فروری    (ایس او نیوز)شرالی کی جدید مچھلی مارکیٹ میں بنیادی سہولیات کو مہیا کرنےمیں ناکام گرام پنچایت کے روبرو پہنچ کر  مچھلیاں فروخت کرنے والی خواتین نے مچھلیاں بیچ کر اپنا احتجاج جتایا۔

شرالی میں جدید مچھلی مارکیٹ کی تعمیر کے بعد مطالبہ کیا گیا تھا کہ مارکیٹ میں مچھلی بیچنے والی خواتین کے لئے بنیاد ی سہولیات فراہم کی جائے۔ لیکن گرام پنچایت بنیادی سہولیات فراہم کرنا تو دور کی بات ، اس تعلق سے کبھی غوروفکر بھی نہیں کیا تو خواتین ماہی گیر احتجاج پر اُتر آئیں۔ خواتین ماہی گیروں نے پنچایت کی جانب سے اعلان کئے گئے ٹینڈر میں حاضر نہ ہوکر، ٹیکس نہ ادا کرتے ہوئے مچھلی مارکیٹ میں مچھلی بیچنا جاری رکھا ۔ جس پنچایت کو قانون کی پاسداری کرتے ہوئے احتجاج پر غور کرنا چاہئے تھا اسی پنچایت نے چپکے سے کچھ مچھلی بیچنے والی خواتین کو دوبارہ رجسٹرڈ کرکے دیا ہے۔ جب قانون کی رکھوالے ہی قانون کی دھجیاں اڑائیں تو عوام بے چاری کیاکرے۔ پنچایت کے رویہ سے مشتعل ہوئیں مچھلی فروخت کرنے والی خواتین نے جمعہ کی صبح گرام پنچایت کے سامنے والے صحن میں مچھلیاں بیچ کر اپنا احتجاج جتایا۔ اس سلسلے میں جب مچھلیاں بیچنے والی خواتین سے پوچھا گیا تو ساحل آن لائن کو بتایا کہ مچھلی مارکیٹ میں کوئی بنیادی سہولیات نہیں ہیں، پینے کا پانی اتنانمکین ہے کہ پینا ناممکن ہے، بارش کے مہینے میں مارکیٹ میں مچھلی بیچنا دشوار ہوسکتاہے۔ مارکیٹ اور گاؤں کا پورا کچرا مارکیٹ کےپاس  ہی ذخیرہ کیا جاتاہے گویا زخم  پر نمک چھڑکایا جارہاہے۔ ان حالات سے ہم لوگ تنگ آگئے ہیں نہ صرف ہمیں بلکہ یہاں آنے والے گاہکوں کو بھی تکلیف ہونے کی وجہ سے گاہکوں کی تعداد میں کمی ہورہی ہے، اسی لئے پنچایت کا دھیان اس طرف فوری توجہ دینے کے لئے ہم نے  احتجاج کا یہ طریقہ اپنایا ہے۔

احتجاج کی خبر ملتے ہی بیدار ہوئے پنچایت کے صدر وینکٹیش نائک نے مچھلی بیچنے والی خواتین صدر اور چند خواتین کے ساتھ پنچایت میں میٹنگ منعقد کرتے ہوئے تمام مسائل کا حل نکالنے کا یقین دلایا۔ اس موقع پر انہوں نے پنچایت سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس سے قبل جن لوگوں نے مارکیٹ سے کرایہ اور ٹیکس فیس وصول کی ہے وہ رقم خود کے لئے استعمال کئے ہیں ان سے متعلقہ رقم پنچایت سے واپس لیں۔


Share: